٥٠- گر خُدا خوش ہوا

 

 

میری قسمت نبی سجاتے ہیں کام بگڑا ہوا بناتے ہیں

میں تو احمد سے عشق رکھتا ہوں سوئی تقدیر وہ جگاتے ہیں

 

بیر رکھا تو مرے احمد سے دشمنی ہے خدا کی قدرت سے

جو خدا کے حبیب کا دشمن غم ہمیشہ اسے ستاتے ھیں

 

رنج وغم سے نجات ہے اسکی میرے آقا سے جو کیا اُلفت

جو بھی روتا ہے یاد کر کے انہیں میسرے آقا اسے ہنساتے ھیں

 

عشق پیدا کرو حسد چھوڑو امتی ہو تو پیار کو جوڑو

جس کے دل میں ہوا حسد پیدا نارِ دُوزخ اسے جلاتے ھیں

 

ایک قدم بندہ جب اٹھاتا ہے سو قدم مولا چل کے آتا ہے

بات یہ سچ میرے خدا کی قسم دل میں دونوں بھی آسماتے ھیں

 

مصطفےٰ خوش اگر ہو اُمت سے ہو گیا کامیاب رحمت سے

گر خدا خوش ہوا ہو بندے سے جلوۓ ہر دم اسے دکھاتے ھیں

 

دل منوّر میر بناتے ہیں گنج گوھر مجھے سجاتے ہیں

ساتھ میں جب رفیق ہیں داور اس وسیلے کو سارے پاتے ھیں

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔