میری ان سے ہی آشنائی ہے
جس نے قِسمت میری بنائی ہے
وہ سِکھاۓ سبق بَھلائی کا
ان کے دم سے ہی پارسائی ہے
وہ سلیقہ سِکھا جینا کا
زندگی ان سے رنگ لائی ہے
جب سے دل ان پہ ہو گیا شیدا
زندگی میں بہار آئی ہے
میں ازل سے ہی اُن کا دیوانہ
ان کی اُلفت ازل سے آئی ہے
اُن کی اُلفت سے دل ہوا روشن
میں نے دولت بڑی کمائی ہے
جن کی اُلفت میں مست ہے داور
ان کے خاطر یہ سب خدائی ہے