دل کو قرار و چین ہے میرے حضور سے
روشن ہوا ہے دِل یہ محمد کے نور سے
میں پی لیا ہوں پیالہ محمد کے نام کا
یہ عاشقی مِلی ہے شراً با طہور سے
سَرشار دِل ہے میرا محمد کے عشقِ میں
کیا واسطہ مجھے کوئی حور و خصور سے
خود کو بقا بنانے کا ایک راستہ ہے یہ
الفت ہے میرے دل میں ہمیشہ حضور سے
عاجز ہوں انکسار نبی کا ہوں خاکسار
رکھتا ہوں دل کو اپنے بچا کر غرور سے
موسیٰ کو صِرف پیار تھا پروردگار سے
اس واسطے وہ گر گئے تھے کوہِ طور سے
داور نے اپنے دل کو مُنوّر بنا لِیا
یہ ظرف تم میں پیدا ہوا ہے حضور سے