٣٧- دِیدار ہو جائے

 

 

کرم کی ایک نظر مجھ پر میرے سرکار ہو جائے

مجھے اِس زِندگی میں آپ کا دیدار ہو جائے

 

میرے دل میں ہمیشہ بس یہی ارمان رہتا ہے

شہِ ابرار سے مِلنا میرا ایک بار ہو جائے

 

تمہارے عَاشِقِ صَادق کی حسرت کچھ نہ باقی ہو

میرے آقا کرم کردو تو بیڑا پار ہو جائے

 

سوائے آپ کے کوئی نہیں ہمدرد ہے میرا

عِنایت آپ کی یا سیّدِ اِکبار ہو جائے

 

خُدا کا واسطہ یا مُصطفیٰ اتنا کرم کردو

دکھا دو آپ کا جلوہ یہ دل سرشار ہو جائے

 

میری اس التجا کو یا نبی منظور کر لیجئے

کہیں ایسا نہ ہو جینا میرا بیکار ہو جائے

 

ازل میں آپ سے دآور جو وعدہ کر کے آیا ہے

یہاں بھی آپ کو دیکھوں ادا اقرار ہو جائے

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔