٢٩- رَب جانے

 

 

سرکار دو عالم کی عظمت یہ اہل زمانہ کَب جانے

رب جانے رب جانے سرکار کا رتبہ رب جانے

 

مُحمد مصطفےٰ صلّی عَلیٰ کی ایسی ہستی ہے

خُدا کے ساتھ میرے مصطفےٰ کی بھی پرستی ہے

مُحمد کے بنا اے مومنوں کلمہ ادھورا ہے

مُحمد کو کرو تسلیم تو ایمان پورا ہے

 

مالک ہی خوب جَانے منشا رسول کا

دیکھو تو رب کے جیسا ہے چہرہ رسول کا

بہتر ہزار سال خدا تھا مقامِ کُن

فنیکُن میں کام آیا ارادہ رسول کا

 

خدا کہتا ہے کہ میں مُصطفے کو یاد کرتا ہوں

مُحمد نام سے میں اپنے دل کو شاد کرتا ہوں

فرشتوں کو بھی ہے تاکید تم الاھُما بولو

مُحمد نام سنتے ہی درود مصطفے بھیجو

 

لگی تھی عرش پر تختی تو آدم نے اسے دیکھا

تھا کلمہ میں مُحمد نام تو یہ بے سبب سمجھا

ہوئی غلطی جو آدم سے ہوۓ جنّت سے وہ باہر

تو وقت التجا نام مُحمد ان کو یاد آیا

 

ہوا تھا حکم آدم کو جہاں چا ہو وہاں جانا

مگر ایک شرط ہے اس جھاڑ کے گندم نہیں کھانا

تو غفلت آگئی ان کو وہ جا کر کھائے گندم

ہوا جب حکم باری تم یہاں سے اب نکل جانا

 

تو اتنے میں صدائے غیب آئی کہ سنو آدم

تمہارا ہے یہی مونس تمہارا ہے یہی ہمدم

تمہارے اور تمہاری آل کا یہ راہنما ہو گا

تم بخشے جاؤ گے اس نام سے یہ مدعا ہو گا

 

حقیقت سامنے آئی سمجھ میں آگیا سب کچھ

میں دیکھا اپنی آنکھوں سے تو میں نے پا گیا سب کچھ

دکھا کر سارا قصہ کاٹ ڈالا ہے زباں میری

میرا داور مریدوں کو یہی سمجھا دیا سب کچھ

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔