مجھے اپنا جلوہ دکھا دو مُحمد کہ اسکے سوا کوئی حسرت نہیں ہے
وہ پر نور چہرہ دکھا دو خدارا کہ اسکے سوا کوئی چاہت نہیں ہے
ہوں شیدا ازل ہی سے آقا تمہارا کہ اس بات پر میرا ایماں گواہ ہے
نہ ہو دل میں جب تک محبت تمہاری خدا کی قسم ہے وہ امت نہیں ہے
جو چہرہ تمہارا ہے چہرہ خدا کا تمہیں جس نے دیکھا وہ دیکھا خدا کو
احد اور احمد میں ہے میم پردہ نہ دیکھا تو حق کی شہادت نہیں ہے
تمہارے سے جو بیر رکھتا ہے دل میں وہ شیطان ہے اسکو انساں نہ کہنا
خدا اس پہ لعنت کریگا یقینًا جسے مصطفے سے محبت نہیں ہے
اے آقا جو تم نے بڑی آرزو سے سجائے ہیں اسلام کے اس چمن کو
مگر اس کو غارت جو کرنے چلے تھے منافق ہے وہ اہل سنت نہیں ہے
ہمیشہ ہی زاہد ہے سر کو جھکایا تصور خدا کا نہیں وقت سجدہ
دکھاوے کی عبادت ہے اسکی حقیقت میں اسکی عبادت نہیں ہے
مُحمد کے نامِ مُبارک کو سُن کر خدا بھی درود ان پر پڑھتا ہے داور
مُحمد کا رتبہ جو سمجھا نہیں ہے وہ اندھا ہے اسکو مہارت نہیں ہے