سنتے ہی نام احمد پہلے درود بولو
پہلے درود پڑھ کر بعد از زبان کھولو
وه ثاني خدا ہیں سرتاج انبیاء ہیں
سرور ہیں دو جہاں کے دل انہیں سمولو
وحدت کے اس صدف میں گوہر ہیں نور احمد
دیدار چاہتے ہو پاکی سے اس کو گھولو
انکار جو کرے گا مردود وہ مرے گا
راہبر ہیں دو جہاں کے فوراً انہیں قبولو
کینہ حسد دلوں سے پل میں نکالتے ہیں
نشرح ہے ان کا پیشہ مل کر کے ان سے دھو لو
جس کے نہیں مُحمد شیطان ہے انکا رہبر
ہوں گے اسی جہاں میں فوراً انہیں ٹٹولو
رہبر تو اس جہاں میں دکھتے ہیں سیکڑوں ہیں
ہے کون ان میں کامل تم ان کے سنگ ہولو
مرنے کے بعد لحد میں یہ بھی سوال ہو گا
کسی دین سے ہے تعلق رہبر ہے کون بولو
داور ہے جن کا خادم قدرت ہے ان پر شیدہ
کیا بات اُن میں ہوگی اپنے نین سے تو لو