لولاک لما پر نقش ہوا گنجیی عرفاں بسم اللہ
وا شمس کا ایماں بسم الله وا لیل کی ہے جان بسم اللہ
وہ لوح و قلم بھی صدقے ہے اور عرش مقدس ہے قرباں
توصیف بھلا میں کیسے کروں قرآن کا عنواں بسم اللہ
آغاز سے پہلے بسم اللہ انجام سے پہلے بسم اللہ
مرکز پہ ٹھرتی ہیں نظریں اس دلمیں ہے پنہاں بسم اللہ
برکت کا یہی سامان تو ہے رحمت بھی تصدق ہوتی ہے
یہ راز نہ ابتک سمجھ کوئی کیوں سب سے نمایاں بسم اللہ
جب تک نہ پڈھوگے بسم اللہ ہر کام ادھورا رہتا ہے
خود حق نے کہا ہے اے داور قرآن کا قرآن بسم الله۔