سجدے میں ہے خُدا سدا سر کو جھکا کے دیکھ لے
تو ہے قیام کھڑا سجدے میں آکے دیکھ لے
اپنی نماز آپ ہی پڑھتا خُدا ہے عرش پر
تو بھی نماز وصل میں خود کو پڑھا کے دیکھ لے
ہردم سجود میں ہے رب اسکا تجھے پتہ نہیں
کیسا ہے تیرا خدا سر کو کٹا کے دیکھ لے
کرتا ہے تو سجدے مگر مسجود کو دیکھا نہیں
مرشد کے پاس آ میرے یہ بھید آکے دیکھ لے
آدم کو سجدے نہ کیا ابلیس لعنتی ہوا
آدم کے سجدے کا مزا مرشد کو پا کے دیکھ لے
جب لطف ہے نماز میں مسجود بھی ہو سامنے
حق یہی معراج ہے نظروں میں لاکے دیکھ لے
داور کی یہ نماز تو اصحاب صفا کی طرح
نماز ہے یہ بے ریا تو آزما کے دیکھ لے