١٩- قادر ادھر تو دیکھو

 

 

رنجوں میں مبتلا ہوں قادر ادھر تو دیکھوں

ہر دم تڑپ رہا ہوں قادر ادھر تو دیکھو

 

در پر تیرے آکر غم میرے سنا کر

هردم پکارتا ہوں قادرا دھر تو دیکھو

 

مشکل ہوں میری آساں حاجت ادا ہو اسآں

دل و جان سے فدا ہوں قادر ادھر تو دیکھو

 

خطروں سے میں ہوں لا چار دنیا میں ہوں غمخوار

آقا میں پھنس رہا ہوں قادر ادھر تو دیکھو

 

عاشق ہوں دل سے آقا پردہ اٹھاو رخ سے

الفت میں مر مٹا ہوں قادر ادھر تو دیکھو

 

چاہو بناؤ قادر چاہے بگاڑو قادر

در کا تیرے گدا ہوں قادرا دھر تو دیکھو

 

خادم کھڑا ہے در پر کر دو مراد پوری

بے کس ہوں بے نوا ہوں قادر ادھر تو دیکھو

 

منقرار علی پیالہ گوہر کو جب پلایا

میں مست ہو گیا ہوں قادرا دھر تو دیکھو

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔