خالقِ دو جہاں یہ دُعا ہے میری مرتے دم میرا ایمان سلامت رہے
میرے مولا یہ قسمت میں لکھدے میری سَرورِ دو جہاں کی عنایت رہے
سر پہ خورشید ہو گا قیامت کے دن مثل دوزخ سے بڑھ کر کے ہوگی زمیں
تو ہو سرکار کا مجھ پہ اتنا کرم سایہ کملی کا وقت قیامت رہے
مجھ کو مرنا ہے بر حق مرونگا ضرور آخری آرزو میری پوچھے خدا
تو میں کہہ دوں گا دل کی تمنا ہے یہ وقت آخر نبی کی محبت رہے
مجھ کو دنیا کے محلوں کی حسرت نہیں مال و دولت خزانوں کی چاہت نہیں
خالق دو جہاں تیرا طالب رہوں میرے دل میں مُحمد کی الفت رہے
بعد مرنے کے برزخ میں میرے لئے میرے مولا تو کر دینا یہ انتظام
تیری رحمت برستی رہے صبح شام دوستوں میں تیرے میری نسبت رہے
تیری مرضی خوشی پر بسر زندگی کر رہا ہوں کرونگا تو جیسا کہے
تو محافظ رہا زندگی بھر میرا بعد مرنے کے تیری حفاظت رہے
میرے مولا تو داور کا حاجت روا دینا والا نہیں کوئی تیرے سوا
میں نہ مانگونگا کچھ نہ اس کے سوا تا حشر یا خدا تیری رحمت رہے