میرے آقا میرے مولا ہَماری آبرو رکھلے
ہَماری التجاؤں کو کرم کے روبرو رکھلے
ہمیں توبہ نہیں آتی سلیقہ بھی نہیں ہم میں
یہ توبہ کچھ نہیں لیکن نسوحہ ھُو بَھُو رکھلے
ہَمیں آتا نہیں ہے کس طرح تجھ کو منانا ہے
ہَماری سب خطاؤں کو کرم کے روبرو رکھلے
بھلے ہیں یا برے کچھ بھی ہیں لیکن تیرے بندے ہیں
طفیل مصطفیٰ قادَر ہَماری لاج تو رکھلے
ہَمیں تیری کریمی پر ہَمیشہ ناز ہے مولا
نہ جائے رائیگاں مولا ہَماری جُستَجو رکھلے
تو آقا ہے تو مولا ہے تیرے اختیار میں سب ہے
ہَمیں کیا غرض اوروں سے ہَماری لاج تو رکھلے
قَبر ہو یا حَشر محشر تُو ہی داور کا داور ہے
حشر کے دِن خدائے پَاک دورِ گفتگو رکھلے