نہیں کوئی سمجھا میں کیا کررہا ہوں!
کسی کے لئے میں دعاء کررہا ہوں!!
وفا کا بس اک نام قائم رہے گا!
اسی واسطے میں وفاکر رہا ہوں!!
دعا اپنے دشمن کو دیتا ہوں اکثر!
جو ہے قرض مجھ پر ادا کر رہا ہوں!!
میری شکل کا میرے اندر چھپا ہے!
میں ہروقت سجدا ادا کر رہا ہوں!!
تری عشق میں دل ہے بیمار میرا!
اسی درد دل کی دوا کر رہا ہوں!!
وہ جلوه تو میری نظر میں بسا بے!
سرطور جاکر صدا کر رہا ہوں!!
تلاشی بقا میں بھی سولی پہ چڑھ کر!
میں ہستی کو اپنی فنا کر رہا ہوں!!
بہت گرد تھی میرے سینے میں مرشد!
کرم سے تیرے آئین کر رہا ہوں!!
کوئی بت پرستی میری دیکھے داور!
بٹھا کر صنم کو خدا کر رہا ہوں!!