زہے قسمت ہم حاضر ہیں یہاں محبوب سبحانی!
شب مولود میں آۓ ہوۓ ہیں غوث جیلانی!!
نہ ہو کیوں نور کی بارش یہاں ہے ذکر آقا کا!
بڑی پر نور مجلس ہے یہاں ہے ذکر نورانی!!
میرے غوث الوارا کا مرتبہ سب سے نرالا ہے!
لقب یہ خاص ان کو مل گیا محبوب سبحانی!!
شکم سے ماں کے ظاہر کر دۓ اپنی کرامت کو!
ولی ابن ولی ہیں غوث میرے پیر لاثانی!!
شب معراج حضرت کو دۓ کا ندھاشہہ جیلاں!
سر عرش معلی پہونچے میرے شاہ جیلانی!!
خدا کے خاص بندوں میں شمار ہوتاہے آقا کا!
حقیقت لیکے آۓ ساتھا اپنے نور یزدانی!!
بنائے گیارہ مرشد اور ان کے پیر کملاۓ!
نرالی شان والے ہیں ہمارے قطب ربانی!!
نبی کے آنکھوں کے تارے علی کے ماہ پارے ہیں!
میرے غوث الورا ہیں فطمہ زہرہ کے بھی جانی!!
رہے کا تاقیامت اولیاء پیر آپ کا سایہ!
ہوا ہے اور نہ ہو گا غوت جیسا کامل انسانی!!
میرے غوث الورا کی یہ بڑی نورانی مجلس ہے!
ادب کے ساتھ بیٹھو ہے یہاں مولود صمدانی!!
غلامی میں رکھو اپنی یہی ہے التجا آقا!
یہ داور اپنا دربانی بلالو غوث لأثانی!!