١٥٣۔ مناجات آمین

 

 

میری فریاد سن اے میرے مہرباں!

چھوڑ کر جاؤ نگا تیرا در میں کہاں!!

 

تیرے در کا گدا ہوں بھکاری ہوں میں!

تیرا بندہ ہی اے رب باری ہوں میں!!

 

تو ہے مالک تو ہی شاہا میں ہوں فقیر!

بھیک دے اپنے در کی اے رب قدیر!!

 

کر دے ہم پر کرم اے شہہ دو جہاں!

دور کردے دلوں سے ہمارے گماں!!

 

کفر سے شرک سے تو بچا لے ہمیں!

اپنی وحدت کے دے تو اجالے ہمیں!!

 

پھنس گئے ہیں غرور و حسد میں بھی ہم!

تیری رحمت کا ہو جاۓ مولا کرم!!

 

نفس کے جال سے ہم کو تو دور کر!

سامنے ہر عدو کے نہ مجبور کر!!

 

ہاتھ میں ہم کو شمشیر عریاں تو دے!

صبر کا اپنے ہاتھوں میں داماں تو دے!!

 

ہم تو غافل ہوۓ ہیں تیرے یاد سے!

سو گئے ہیں یہاں اپنی فریاد سے!!

 

آگ الفت کی دل میں تو ایسی لگا!

مرده دل کو ہمارے تو آقا جگا!!

 

ہر مصیبت سے رنج و الم سے بچا!

دین احمد کی الفت کو دل میں بڑھا!!

 

کردے آسان سب مشکلوں کو یہاں!

سن ہماری صدا مالک دو جہاں!!

 

معاف کردے خطا اور تقصیر کو!

کردے برتر ہماری تو تقدیر کو!!

 

پختگی دے ہمارے تو ایماں کو!

ہم نہ بھولیں کبھی تیرے فرماں کو!!

 

قبر میں کر عطا روشنی نور کی!

داغ لگنے نہ پاۓ کفن کو کبھی!!

 

رحم کر ہم پہ کہتے ہیں تجھ تو رحیم!

ہو کرم ہم پہ تیرا کہ تو ہے کریم!!

 

ہے رفیقی یہ داور تیرا ہی غلام!

گنج گوہر کا سایہ رہے بس مدام!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔