زیارت قبر پیمبر کی صبح دم ہوتی ہے ٹھہرو ٹھہرو!
یہ درشن گوہر منور کی گھما گھم ہوتی ہے ٹھہرو ٹھہرو!!
قبر دھوعطر گلابوں سے!
چڑھاؤ صندل پلکوں سے!
اڑاؤ پھول کو آنکھوں سے!
یہ قدرت گوھر منور کی صبح دم ہوتی ہے ٹھہرو ٹھہرو!
زیارت قبر پیمبر کی صبح دم ہوتی ہے ٹھہرو و ٹھہرو!!
پھنس کے رنج ومصیبت میں ہم!
سرکواپنے در پہ کئے ہیں خم!
ہمارے دور کرو تم غم!
یہ رحمت گوھر منور کی صبح دم ہوتی ہے ٹھہرو ٹھہرو!
زیارت قبر پیمبر کی صبح دم ہوتی ہے ٹھہرو ٹھہرو!!
یہ اپنے در کے بھکاری ہیں!
ہم ہاتھ کو اپنے پسارے ہیں!
دلا دو بھیک تمہارے ہیں!
یہ خیرات گوہر منور کی صبح دم ہوتی ہے ٹھہرو ٹھہرو!
زیارت قبر پیمبر کی صبح دم ہوتی ہے ٹھہرو ٹھہرو!!
یہ داور آ کے کھڑا ہے در پر!
جھکایا سر کو ہے چوکھٹ پر!
بچانا اس کو سر محشر!
دعایہ رفیق منور کی صبح دم ہوتی ہے ٹھہرو ٹھہرو!
زیارت قبر پیمبر کی صبح دم ہوتی ہے ٹھہرو ٹھہرو!!