١٤٣۔ اے شہہ غوث اعظم

 

 

سلامً علیک اے شہہ غوث اعظم!

تری یاد میں ابتو نکلے مرا دم!!

 

کئے مشکلوں میں بھی مشکل کشاہی!

نچھاور ہے تم پر خدا کی خدائی!

قدم احمدی تم لئے عرش اعظم!

سلامً علیک اے شہہ غوث اعظم!!

 

تمہیں سارے ولیوں کے ہوتاج شاہی!

خدا کی طرف سے ملی بادشاہی!

مدد کیجئے آکے حسن مجسم!

سلامً علیک اے شہہ غوث اعظم!!

 

تمہیں شاہ جیلانی بغداد والے!

بڑی شان والے جہاں سے نرالے!

زمانے کے ولیوں میں تم ہو معظم!

سلامً علیک اے شہہ غوث اعظم!!

 

تمہیں مصطفے کی نظر کے ستارے!

علی مرتضی کے جگر ماہ پارے!

حسین وحسن کی نگاہوں میں ہر دم!

سلامً علیک اے شہہ غوث اعظم!!

 

بنادو ہماری بھی بگڑی بنادو!

بس اک بار رخ سے پردہ ہٹا دو!

لو داور کی فریاد شاہ مکرم!

سلامً علیک اے شہہ غوث اعظم!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔