١٣٥۔ آستان غوثِ پاک

 

 

ہے یہی اعلان ہم ہیں عاشقان غوث پاک!

لاۓ تو کوئی ذرا شایان شان غوث پاک!!

 

چوم لوں پلکوں سے اپنی اور جھکادوں یہ جبیں!

کاش مل جاۓ ہمیں وہ آستان غوث پاک!!

 

آشنا ہم ہیں حقیقت سے کہانی کیا سنیں!

قصہ خواں ہم کو سنا تو داستان غوث پاک!!

 

ہو گیا وہ داخل اسلام اک تقریر میں!

جسنے بھی دل سے سنا ہے بس بیان غوث پاک!!

 

مصطفے کی بات پر حضرت علی کو ہے یقیں!

جو زباں ہے مرتضی کی وہ زبان غوث پاک!!

 

قادری اور سروری ہے تیغ اپنے ہاتھ میں!

کب زمانے سے ہیں ڈرتے عاشقان غوث پاک!!

 

اے فرشتو سوچ کر آنا ہماری قبر میں!

مرشد داور بھی ہیں اک جانفشان غوث پاک!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔