١٣٢۔ در جانانہ علی کا

 

 

پیاسا کبھی رہتا نہیں مستانہ علی کا!

ہاتھوں میں لئے پھرتا ہے پیمانہ علی کا!!

 

کیونکر نہ بجھائیں وہاں تشنہ لبی کو!

ہر وقت کھلا رہتا ہے میخانہ علی کا!!

 

پوچھو نہ سوالات کبھی اس سے نکیریں!

دیوانہ علی کا ہے وہ دیوانہ علی کا!!

 

حضرت ہیں شہر علم کا درواز ہ علی ہیں!

جو گھر ہے نبی کا وہی کاشانہ علی کا!!

 

خالی کوئی لوٹا نہیں سرکار سے ان کی!

ہے بہر سخاوت در جانانہ علی کا!!

 

داماد پیمبر ہیں تو زہرہ کے ہیں شوھر!

ہراک سے ہے انداز جدا گانہ علی کا!!

 

اعزاز میرے واسطے یکم نہیں داور!

ہرایک مجھے کہتا ہے دیوانہ علی کا!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔