١٣٠۔ پیر مغاں سید کبیر احمد

 

 

عطا ہو ہم کواپنا آستاں سید کبیر احمد!

وہیں پیر ہے حیات جاوداں سید کبیر احمد!!

 

تمہیں مرشد محی الدین جیلانی کے برحق ہے!

تمہیں وحدت کے ہو پیر مغاں سید کبیر احمد!!

 

چھپا یا جس کو پھر قدرت نے اپنے کار خانے میں!

وہی اک راز کردو پھر عیاں سید کبیر احمد!!

 

رسائی ہے کہاں تک جانتے ہیں معرفت والے!

اٹھاسکتا نہیں سر آسماں سید کبیر احمد!!

 

تھے جتنے پیچ خم کلمہ میں ظاہر کر دۓ پل میں!

کہ کھولا آپ نے راز نہاں سید کبیر احمد!!

 

نقاب رخ اٹھا دو دیکھ لوں میں آپ کا چہرہ!

بس اک جلوہ کا طالب ہوں یہاں سید کبیر احمد!!

 

رفاعی سلسلہ کے آپ ہی بانی ہیں اے داور!

زباں پر ہے یہی اک داستاں سید کبیر احمد!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔