انمیں نہ چال ہے میرے پیران پیر کی!
پیری مریدی کرتے ہیں منکر نکیر کی!!
بدکار بدچلن کی طرح گھومتے ہیں وہ!
گانچہ شراب پی کے سدا جھومتے ہیں وہ!
تو ہیں ہور ہی ہے میرے دستگیر کی!
پیری مریدی کرتے ہیں منکر نکیر کی!!
ہر بات میں قرآن سناتے ہیں آجکل!
حضرت کے بھی حدیث بتاتے ہیں آجکل!
اور کچھ کتاب رکھتے ہیں روشن ضمیر کی!
پیری مریدی کرتے ہیں منکر نکیر کی!!
واقف نہیں ہیں کلمہ سے کلمہ پڑھاتے ہیں!
اپنی بغل میں دیکھئے رب کو دکھاتے ہیں!
جاگیر ملگئی ہے شہہ بے نظیر کی!
پیری مریدی کرتے ہیں منکر نکیر کی!!
ڈاڑھی بھی ایک ہاتھ کی رکھتے ہیں ایسے پیر!
کہلاتے ہیں زمانے میں اپنے کو وہ فقیر!
کھاتے ہیں وہ قسم بھی عرب کے امیر کی!
پیری مریدی کرتے ہیں منکر نکیر کی!!
رنگین کپڑے پہن کے اٹھلا کے چلتے ہیں!
پوڈر لگا کے چہرہ پہ بل کھا کے چل تے ہیں!
دن رات فکر رہتی ہے بس روٹی کھیر کی!
پیری مریدی کرتے ہیں منکر نکیر کی!!
بیوہ پہ ڈال دیتے ہیں مکاریوں کا جال!
اور بعد میں وہ کرتے ہیں شادی کا بھی خیال!
لیلی کی ہے کہانی کبھی رانجھا ہیر کی!
پیری مریدی کر تے ہیں منکر نکیر کی!!
قادر بچالے سب کو یہاں جھوٹے پیر سے!
داور کی التجا ہے یہ روشن ضمیر سے!
عزت سے کھیلتے ہیں میرے دستگیر کی!
پیری مریدی کرتے ہیں منکر نکیر کی!!