ہے یہ صندل رفیقی میرے پیر کا!
قادری پیر کا سروری پیر کا!!
آج گو ہر بھی آئیں گے صندل لئے!
اور منور جلائیں گے گھی کے دیئے!
نام روشن کریں گے میرے پیر کا!
قادری پیر کا سروری پیر کا!!
آج حوران خلد بریں آئیں گی!
باغ جنت سے پھول اور کلی لائینگی!
روضہ مہکائیں گی رب کے دلگیر کا!
قادری پیر کا سروری پیر کا!!
آج کی شب صبح تک شہانی رہے!
آسماں سے زمیں تک نورانی رہے!
درکھلے گا یہاں سب کی تقدیر کا!
قادری پیر کا سروری پیر کا!!
پنجتن پاک کی یہ نوازش ہوئی!
رحمت حق کی چوکھٹ پہ بارش ہوئی!
خوب محتاج ہے آج تعبیر کا!
قادری پیر کا سروری پیر کا!!
جوبھی مانگے مراد میں ملینگے یہاں!
یہ ہے داور کا اعلان شک نہ گماں!
دیکھ لو چہرہ مرشد کی تصویر کا!
قادری پیر کا سروری پیر کا!!