المدد مرشدا المدد مرشدا!
المدد مرشدا المدد مرشدا!!
میں غریب نا تواں اور خستہ حال ہوں!
درد آشنا ہوں میں غم سے پائیمال ہوں!
اک نظر کرم کی ہو عشق بے خیال ہوں!
میں ہی خود جواب ہوں میں ہی خود سوال ہوں!
میں خموش کیوں رہوں دونگا آپکو صدا!
المدد مرشدا المدد مرشدا!!
آندھیاں ہیں ہر طرف بیچ میں سفینہ ہے!
موت سر پر ہے کھڑی ماتھے پہ پسینہ ہے!
اشک غم بتا یے کب تلک کے پینا ہے!
چاک پیرہن کو بھی کب تلک یہ سینا ہے!
کشتی کو بچائے آپ تو ہیں ناخدا!
المدد مرشدا المدد مرشدا!!
چھوڑ کرتمہارا در میں کدھر جاؤ نگا!
اس جہاں میں آپ سا میں کہاں پہ پاؤنگا!
حال اپنا دنیا میں کس کو میں سناؤنگا!
اپنے دل میں آقا میں پھر کسے بساؤنگا!
تم ہی تم ہو نظروں میں ہے نہ کوئی دوسرا!
المدد مرشدا المدد مرشدا!!
وصل کا پیالہ اب مرشدا پلایئے!
پردہ اپنے چہرہ سے اب ذرا ہٹایۓ!
دید کی تمنا ہے جلوہ اب دکھا یے!
داور آب ہے مضطرب آقا ابتو آیۓ!
مشکلوں کوحل کرو غوث کا ہے واسطہ!
المدد مرشدا المدد مرشدا!!