کر تعظیم آئی ہے میرے سرکار کی چادر!
رفیق قادری وسروری دلدار کی چادر!!
مرادیں مانگنے والو مرادوں سے بھر وجھولی!
بڑے دربار میں آئی سخن گھر بار کی چادر!!
ملائک کیوں نہ لیکر آئیں گے تحفہ درودوں کا!
کہ یہ ہے دل نشین حیدر کرار کی چادر!!
کوئی مایوس لوٹا ہی نہیں اس آستانے سے!
ادب سے لے چلو یہ ہے بڑے غمخوار کی چادر!!
یہاں انوار کی ہوتی ہے بارش فصل مولی سے!
یہ نکلی ہے محمد مصطفے کے یار کی چادر!!
قطب غوث زماں ابدال سب سا یہ فگن ہونگے!
لگالو آنکھوں سے ہے قابل دیدار کی چادر!!
اٹھاؤں اپنے سر پر کیوں نہ چادر آج اے داور!
رفیق آقا میرے مرشد میرے سرکار کی چادر!!
(بچائیں گے نگاہوں سے مزار پاک پر داور
قمر کہتا ہے تاروں سے سما جاؤ اس چادر میں)