کتنا بلند مرتبہ پاۓ رفیق آقا!
عرفان آگہی کو پاۓ رفیق آقا!!
جو بات حق ہے اس پہ رہے کار بند آپ!
پیغام معرفت بھی سناۓ رفیق آقا!!
دنیا مزار پاک پہ حیران ہوگئی!
جلوہ احمدی بھی دکھاۓ رفیق آقا!!
تو اور میں کی باتوں میں الجھا تھا یہ جہاں!
انتا آنا کا فرق مٹاۓ رفیق آقا!!
مرشد کا میرے یہ بھی کرم کوئی دیکھ لے!
ناچیز کو بھی اپنا بناۓ رفیق آقا!!
ظاہر کی آنکھ اور ہے باطن کی آنکھ اور!
گنج خفی کا راز بتاۓ رفیق آقا!!
داور سکون مل گیا مجھ کو مزار میں!
بن کر فرشتہ قبر میں آۓ رفیق آقا!!