١٢١۔ قدم کو چومتے جاؤ

 

 

زیارت گاہ گوہر ہے قدم کو چومتے جاؤ!

یہاں ذکر منور ہے قدم کو چومتے جاؤ!!

 

آج پردہ دوئی اٹھائیں گے!

اپنا جلوہ ہمیں دکھائیں گے!

آج مولی سے وہ ملائیں گے!!

 

رفیق آقا کا یہ گھر ہے قدم کو چومتے جاؤ!

یہاں ذکر منور ہے قدم کو چومتے جاؤ!!

 

قبر دھوئیں گے ہم گلابوں سے!

پھول وصندل کو اپنی پلکوں سے!

در کو چومیں گے اپنی آنکھوں سے!

 

شہنشاہوں کا یہ در ہے قدم کو چومتے جاؤ!

یہاں ذکر منو ر ہے قدم کو چومتے جاؤ!!

 

دور کردینگے ہر الم اپنے!

دل میں ہوگا نہ کوئی غم اپنے!

بخش دینگے وہ سب کرم اپنے!!

 

یہی محبوب دلبر ہے قدم کو چومتے جاؤ!

یہاں ذکر منور ہے قدم کو چومتے جاؤ!!

 

مصطفے کی نظر کے تارے ہیں!

مرتضی فاطمہ کے پیارے ہیں!

غوث اعظم کے ماہ پارے ہیں!!

 

یہں تو جام کوثر ہے قدم کو چومتے جاؤ!

یہاں ذکر منور ہے قدم کو چومتے جاؤ!!

 

لیکے جائیں گے گوہری صدقہ!

اپنے آقا سے سروری صدقہ!

اپنے دامن میں قادری صدقہ!!

 

غلاموں میں یہ داور ہے قدم کو چومتے جاؤ!

یہاں ذکر منور ہے قدم کو چومتے جاؤ!!

 

 

 

(سر محشر دکھائیں گے تمہیں داور منور کو

یہ دربار منور ہے قدم کو چومتے جاؤ)

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔