یہ دل میں گھر ہے بنایا پیر!
رکھا ہے دونوں میں دوشمشیر!!
اپنا مرشد بنایا دل میں شجر ہے ایک نادر!
نام ہے انکا بالا جہاں میں رفیق ہے قادر!
وہی ہے تیرے نگر کا پیر!!
جھاڑ کے اندر بات ہے نیاری سناؤں تجھکو میں!
سمجھ نہیں سو لوگ رے بھائی سمجھے کیا اسکے گن!
ملیگی اس میں تجھے جاگیر!!
سات ہیں ڈالیاں چھ ہیں پتے دو ہیں اس میں پھول!
پیڑ کے اندر پھل ہے اس کا خیال کا بن مول!
اگر تو دیکھ لے دل کو چیر!!
پیڑ ہے اسکا عرش بریں پر پتے سب بڑ کے!
جھاڑ وہاں پر چھوٹا سا ہے اُلٹے ڈالیاں اسکے!
یہاں تو دیکھلے تجھکو چیر!!
پانچ ہیں رنگاں پچیس ڈھنگاں پھول میں ہیں اک سنگ!
سنگ کے اوپر نور محمد دیکھا عجب ایک ڈھنگ!
اگر تو دیکھے وہ پھول کو چیر!!
سات زمیں میں سات سما میں کہاں نہیں وہ جھاڑ!
کھو کے خودی دیکھ لے من میں عرش بریں پر جھاڑ!
اگر تو دیکھ لے من کو چیر!!
پھل میں اس کے ہزار خانے بینجے ہیں اس میں کروڑ!
بینج کے اندر رفیق ہے میرا داور اسے نہ چھوڑ!
ملیگی اس میں تجھے جاگیر!!
(کامل ایسی مٹی لیکر حکمت سے کی خمیر!
صورت آدم عجب بنا کر کیا ہے روشن ضمیر)