١١٩۔ خوب رلا کر چلے گئے

 

 

سینے میں میرے شمع جلاکر چلے گئے!

اک اور درد دل میں بسا کر چلے گئے!!

 

یہ دن کہاں نصیب تھے غفلت میں تھے ہمیں!

تقدیر جوتھی سوئی جگا کر چلے گئے!!

 

منجدھار میں تھی کشتی ہماری پھنسی ہوئی!

طوفان غم سے پار لگا کر چلے گئے!!

 

دل میں جو وسوسہ تھا میرے دور ہوگیا!

الہام اور یقین میں لا کر چلے گئے!!

 

در در بھٹک رہا ہوں میں ان کی تلاش میں!

جانے کہاں نظر میں سما کر چلے گئے!!

 

اپنی مثال ایسی کہ گم کردہ صدف!

قطرہ سے ہم کو موتی بنا کر چلے گئے!!

 

آقا رفیق رخ سے پردہ ہٹایئے!

داور کو اپنے خوب رلا کر چلے گئے!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔