اے یار یہ بھی کتنا حسیں اہتمام ہے!
سجدے میں کوئی ہے تو کسی کا قیام ہے!!
الہام داگہی نہیں سب کے نصیب میں!
اس کی طرف سے خاص عطا اور پیام ہے!!
دیوان گان عشق کو سمجھا نہیں کوئی!
ان کو سمجھنا بس کسی عاشق کا کام ہے!!
کمظرف کی غلامی کریں اور ہم ندیم!
کہتے ہیں جس کو نفس ہمارا غلام ہے!!
لاہوت میں جو پہونچا وہ انی آنا ہوا!
تو جانتا ہے شیخ یہ کیسا مقام ہے!!
مانگے تھے آگ اور ملی ہے پیمبری!
سر شار ہے وہاں تو کوئی تشنہ کام ہے!!
بن دیکھے سجدا کرتے ہیں پڑھتے ہیں جو نماز!
ان اہل دیں کو دور سے داور سلام ہے!!