١١٧۔ زندہ ہو کر مچلنے لگے

 

 

جام پر جام یوں ہم نے پینے لگے!

عاصیوں کے مقدر بدلنے لگے!!

 

مل گئی ان کی نظروں سے نظریں یہاں!

لا مکاں سے مکاں ہم تو جانے لگے!!

 

ان کی سیرت ہے قرآں نہیں شک ذرا!

ان کی صورت سے ایماں چمکنے لگے!!

 

ان سے تفسیر جب بھی ہوئی ہے بیاں!

مردہ دل زندہ ہو کر مچلنے لگے!!

 

آگئے میرے گھر ان کے نازک قدم!

پھر مقدر ہمارے بدلنے لگے!!

 

کیا بیاں ہو سکے ہم سے شان رفیق!

ان کی خوشبو سے یہ دل مہکنے لگے!!

 

ایک دن آئینہ سے مخاطب تھے ہم!

ہم تھے غائب نظر وہ تو آنے لگے!!

 

کیا بتاؤں رفیقی کا حسن و جمال!

وہ ہمارے میں ہم ان میں رہنے لگے!!

 

رخ سے اکبار پردہ اٹھاۓ تھے وہ!

دیکھ کر جلوے ہم ہوش کھونے گئے!!

 

چاند کے بدلے جب ہم نے دیکھا انہیں!

یہ ہے وحشی جہاں سارے کہنے لگے!!

 

کیا بتاؤں رفیقی کا حسن و جمال!

انکی خوشبو سے داور مچلنے لگے!!

 

چھپ کے باطن احمد میں تھے داور علی!

آج قدرت سے ظاہر وہ ہونے لگے!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔