فقیر آۓ در پر صدا کر چلے ہیں!
سبھی کے لئے ہم دعا کر چلے ہیں!!
رکھو دوستی تم فقیروں سے قائم!
یہ جنت کی کنجی بناکر چلے ہیں!!
فقیری میں جتنے بھی ہیں فرض دیکھو!
وہ ہر فرض کو بھی ادا کر چلے ہیں!!
لباس فقیری کی خوشبو ہے ایماں!
یہ خوشبو سبھی کو سنگھا کر چلے ہیں!!
فقیروں میں ہرگز تکبر نہیں ہے!
ہمیشہ یہ سر کو جھکا کر چلے ہیں!!
جو ہے نحن و اقرب وہ قرآن سے ہے!
وہ نزدیک تر ہے دکھا کر چلے ہیں!!
نہیں شیش محلوں میں نایاب گوہر!
فقیر اپنی جھولی میں پاکر چلے ہیں!!
ہے وحدت کے دریا میں وحدت ہی وحدت!
یہ دل سے دوئی کو مٹا کر چلے ہیں!!
نہ تھا ہم کو معلوم اسلام کیا ہے!
وہ دین محمد بتا کر چلے ہیں!!
یہ منصور ہیں اور کبھی شمس و سرمد!
فنا اور بقا دکھا کر چلے ہیں!!
نہیں توڑ تے دل کسی کا یہ ہرگز!
یہ دل کو بھی کعبہ بناکر چلے ہیں!!
قضا جتنی ہم سے ہوئی تھی اے داور!
نمازوں کو ہم وہ ادا کر چلے ہیں!!