١٠٨۔ دید بازوں کی محفل

 

 

دید بازوں کی محفل میں آجاۓ!

آپ کی اک کمی ہے چلے آۓ!!

 

یوں ہی کبتک ترستے رہیں گے یہاں!

آپ کے غم کے مارے یہ جائیں کہاں!

اب نظر میں نہیں ہے کوئی آستاں!

آنے جانے کی زحمت یہ فرمایئے!!

 

جھاڑ پھولوں کے ہیں گل نہیں ہیں مگر!

گل بھی گر ان میں ہیں تو نہیں ہیں ثمر!

سوکھ جاۓ نہ قادر کہیں یہ شجر!

ہم غریبوں پہ اتنا ترس کھایئے!!

 

ابتو کشتی کے ملاح تم مہرباں!

نا خدا بھی تمہیں اور تمہیں کارواں!

ڈوب جاۓ نہ کشتی بھنور میں یہاں!

اس سفینے کو قادر بچا جایے!!

 

آپ آئیں تو بن جاۓ بگڑی مری!

جاں بلب جتنے ہیں ہونگے زندہ سبھی!

ہم پہ ہوجائیگی پھر نگاہ نبی!

قادر پاک تشریف لے آئے!!

 

حشر میں جب رہو نگا اکیلا وہاں!

آپ ہو جائیں گے جس گھڑی بس عیاں!

اے رفیق آقا تم ہو میرے مہرباں!

اب کرم اپنے داور پہ فرمائے!!

 

(دید بازوں میں دیدار داور ملا

اپنے من کے چمن میں وہ گوھر ملا)

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔