١٠٦۔ بے وضو بھی نہیں

 

 

کسی سے ملنے کی اب دلمیں آرزو بھی نہیں!

ملے جو آپ تو اوروں کی جستجو بھی نہیں!!

 

 میرے ہی سجدوں نے تجھ کو خدا بنایا ہے!

تری نظر میں اگر میں نہیں تو تو بھی نہیں!!

 

جنوں کے واسطے لازم ہے چاک دامانی!

گریباں چاک کو اب حاجب رفو بھی نہیں!!

 

نماز عشق ادا کرنا فرض اول ہے!

مرا وجود ازل ہی سے بے وضو بھی نہیں!!

 

اٹھا دے آکے تو انتا انا کا اب پردہ!

یہ کائنات میں میں بھی نہیں تو تو بھی نہیں!!

 

تری نگاہ کو کیا ہوگیا ہے اے ساقی!

سحرکا وقت ہے اور بادہ صبو بھی نہیں!!

 

تصورات بھی مرشد کا اک عبادت ہے!

یہ کس نے کہد یا داور کے روبرو بھی نہیں!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔