١٠٥۔ اقرار نبھانا ہی پڑیگا

 

 

دنیا میں تو آیا ہے تو جانا ہی پڑیگا!

قالو بلی اقرار نبھانا ہی پڑیگا!!

 

دنیا کی جو راحت ہے اسے تو نہیں پانا!

سودا جو ہے محشر کا اسے لیکے ہے جانا!

اس راز حقیقت کو قد پانا ہی پڑیگا!

قالو بلی اقرار نبھانا ہی پڑیگا!!

 

اس راز حقیقت کو نہ سمجھا ہے تو زاہد!

کرتا ہے ہمیشہ یہاں تکرار تو بے حد!

اب تیرا پتہ تحھ کو بتانا ہی پڑیگا!

قالوبلی إقرار نبھانا ہی پڑیگا!!

 

تو نحن اقرب کو ذرا دیکھ لے نادان!

اور پڑھ کے تو پھر اینما ہوجا وہاں انجان!

اس بوجھ کو کاندھے پہ اٹھانا ہی پڑیگا!

قالو بلی اقرار نبھانا ہی پڑیگا!!

 

مطلب ہے جو الانسان سری کو تو یہاں لے!

علی صورت خلق آدم کو سمجھ لے!

آدم کے لئے سرکو جھکاناہی پڑیگا!

قالوبلی إقرار نبھانا ہی پڑیگا!!

 

میرے رفیق آقا تو مرشد میرے داور!

بس انکے کرم سے یہ مرا دل ہے منور!

سر ان کے ہی قدموں پہ لیجانا ہی پڑیگا!

قالوبلی إقرار نبھانا ہی پڑیگا!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔