١٠٣۔ دیوانوں کا کیا ہوگا

 

 

حقیقت آشنا ہونگے تو افسانوں کا کیا ہوگا!

جلے گی شمع محفل میں تو پروانوں کا کیا ہوگا!!

 

یوہنی تم پھیر لو گے منہ کو اپنے بزم سے اٹھ کر!

کبھی یھی نہیں سوچا کہ دیوانوں کا کیا ہوگا!!

 

نہ دیکھو اسطرح ہم کو بدل کر آنکھیں محفل میں!

ہمارے دل میں ہیں جتنے وہ ارمانوں کا کیا ہوگا!!

 

تمنا آرز و حسرت مرادیں مدعا ارماں!

اگر تم روٹھ جاؤ گے تو مہمانوں کا کیا ہوگا!!

 

تمہارے واسطے ہم نے سجا کر رکھ دیا گھر کو!

نہ دیکھو گے جو خود کو آئینہ خانوں کا کیا ہوگا!!

 

تمہارا آسرا پا کر سنبھالے ہیں خودی اپنی!

تمہارا فیض نہ ملتا تو دیوانوں کا کیا ہوگا!!

 

بہک ہی جائیں گے واعظ کی فتنہ ساز باتوں سے!

نہ سمجھاؤ گے تم داور تو نادانوں کا کیا ہوگا!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔