٩٩۔ غلام ہوں عالم پنا کا

 

 

بھولیں گے راستہ نہ تیری جلوہ گاہ کا!

درسے  تیرے ملا ہے پتہ سیدھی راہ کا!!

 

تولا دکھا کے کہہ دیا مجھ کو الہ بھی!

مطلب سمجھ میں اگیا اب لا إلہ کا!!

 

کاندھو پہ لیکے پھر تے ہو ہر کوچہ ہر دیار!

زاہد تمہارے سر پہ ہے بستر گناہ کا!!

 

سیمی لباس کو بھی وہ رتبہ نہیں نصیب!

جو مرتبہ ہے شیخ لباس سیاہ کا!!

 

باب قبول تک ہے رسائی غلام کی!

تاثیر سے ہے رشتہ دعاؤں کا آہ کا!!

 

اوروں پہ تیرا لاکھ کرم ہے تو کیا ہوا!

میں منتظر ہوں بزم میں تیری نگاہ کا!!

 

اعزاز میرے واسطے داور یہ کم نہیں!

ادنی میں اک غلام ہوں عالم پناہ کا!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔