٩٨۔ موت کا جب پیام آیا

 

 

رفیق آقا کے میکدہ سے کبھی نہ میں تشنہ کام آیا!

میں پی چکا ہوں نظر سے انکی میرے لئے خاص جام آیا!!

 

کبھی وہ ہنس کر پکارے مجھکو میں پہنچا انکے حسیں قدم میں!

زباں پہ میرے یہی صدا تھی کہ آقا اپنا غلام آیا!!

 

کبھی کبھی تو گلے لگا کر وہ مجھ کو کر تے رہے ہدایت!

 میری  خوشی کی نہ انتہا تھی میرے لئے کیا مقام آیا!!

 

نہ دیکھے مجھ کو نہ چین پاۓ کہ رہتے وہ بے قرار ہو کر!

نظر اچانک جو پڑتی مجھ پر تو کہتے قائم مقام آیا!!

 

چمن پرستو خبر ہے تم کو ہری نہیں تھی یہ شاخ گل کی!

لہودیا ہے چمن کو میں نے وہ باغباں کے میں کام آیا!!

 

لبوں پہ ہلکی ہنسی جو آئی فدا ہوئی ہے وہیں خدائی!

کسی نے رکھدی جبیں قدم پر کسی کا ان کو سلام آیا!!

 

ہرے بھرے اس چمن میں بجلی اچانک آکرگر یگی داور!

 میرے یہ سینے پہ سر تھا ان کا کہ موت کا جب پیام آیا!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔