٩٧۔ آدم خدا معلوم ہوتا ہے

 

 

خدا سے حسن آدم کب جدا معلوم ہوتا ہے!

جو دیکھو غور سے آدم خدا معلوم ہوتا ہے!!

 

ازل کے روز سے حیرت میں ہے کثرت کا دروازہ!

کہ ان کا عکس میرا آئینہ معلوم ہوتا ہے!!

 

خدا خود چھپ کے بیٹھا ہے لباس آدمیت میں!

اگر ہے آنکھ تو اس کا پتہ معلوم ہوتا ہے!!

 

احد میں اور احمد میں فقط ہے میم کا پردہ!

کہ یکجائی میں کوئی دوسرا معلوم ہوتا ہے!!

 

ہیں جتنے فلسفی یہ جان لیں پہلے کہ آدم بس!

یہ پانی کا ذرا سا بلبلہ معلوم ہوتا ہے!!

 

ہزاروں درد ہیں اس میں ہزاروں صورتیں اس میں!

ذرا سادل ہے لیکن کام کا معلوم ہوتا ہے!!

 

وہ دیکھو بات ہر دم کر رہا حوروں غلماں کی!

اے داور شیخ بھی کچھ چلبلا معلوم ہوتا ہے!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔