داور کو اپنے لذت دیدار بانٹ دو!
پردہ اٹھا کے چہرہ سے سرکار بانٹ دو!!
در پر کھڑا ہوا ہوں کوئی پوچھتا نہیں!
خیرات اپنے جلوؤں کی غمخوار بانٹ دو!!
عاشق ہوں آپ ہی کا فقط اس زمانے میں!
بیتابیوں کے واسطے آزار بانٹ دو!!
دامن جو میرا خالی ہے بھر جائیگا یہاں!
گل کی نہیں ہے آرزو بس خار بانٹ دو!!
دن رات کی صداؤں سے اچھا یہی تو ہے!
سو بار کی بجاۓ بس ایکبار بانٹ دو!!
بس اک جھلک ہی کافی ہے اے یوسف رفیق!
کس نے کہا کہ مصر کا بازار بانٹ دو!!
داور سجود میں ہے ذرا دیکھ لیجے!
اپنے منور آقا کے دلدار بانٹ دو!!