سنا ہے آج انکے گھر قیامت ہونے والی ہے!
کسی عاشق سے پھر انکی عداوت ہونے والی ہے!!
چلے ہیں سوۓ مقتل اور ہے تلوار ہاتھوں میں!
خدا جانے وہاں کس کی شہادت ہونے والی ہے!!
چلواے عند لیبو آج وہ آئیں گے گلشن میں!
نئے انداز سے حسن ونزا کت ہو نے والی ہے!!
سنور کر آئینہ میں دیکھتے ہیں آپ خود چہرہ!
نہ جانے آج ان کو کس سے الفت ہونے والی ہے!!
شکن انکی جبیں پر ہےتبسم ان کے لب پر ہے!
غضب کے بعد پھر سب پر مروت ہونے والی ہے!!
ورق الٹا رہے ہیں دفتر عصیاں کا محشر میں!
طفیل مصطفے سب کی شفاعت ہونے والی ہے!!
مرا الہام اب حدیقیں میں آ گیا داور!
رسول اللہ کی مجھ پر عنایت ہو نے والی ہے!!