نہ جانے کس لئے ہردم وہ مجھ کو یاد کرتے ہیں!
ستم مجھ پر نیا ہر آن وہ ایجاد کرتے ہیں!!
فضاں کرنا تو فطرت ہے ہماری اے چمن والو!
یہ کس نے کہ دیا ہم نالئہ شمشاد کرتے ہیں!!
بڑا ہی لطف ہے صیاد کی ان میٹھی باتوں میں!
ذرا کچھ روز ٹھہرو پھر تمہیں آزاد کر تے ہیں!!
ہمیں وہ ہیں لٹادی جان اپنی باغبانی میں!
ہماری جاں نثاری کو کہاں وہ یاد کرتے ہیں!!
کہاں لے جائیں ہم انصاف ایسا اس زمانے میں!
مہرباں ہو کے وہ ہم پر ستم ایجاد کرتے ہیں!!
ستم معشوق کا سہنا لطافت ہے عنایت ہے!
وہ ہم عاشق نہیں جو شکوۂ بیداد کرتے ہیں!!
رسید ان قفس میں ان سے ہم مایوس ہو بیٹھے!
شکایت باغبانوں سے یہ کیوں صیاد کرتے ہیں!!
جوانی آ گئی لیکن شرارت اب بھی باقی ہے!
کبھی وہ شاد کرتے ہے کبھی ناشاد کر تے ہے!!
ہمارے ظرف میں وسعت ہے اتنی ظلم سہنے کی!
کسی کے روبر و داور نہ ہم فریاد کرتے ہیں!!