اک نگاہ ناز سے تو اے ستمگر دیکھ لے!
قتل کرنا ہے تو پہلے اپنا خنجر دیکھ لے!!
مقصد و ارمانیوں سینکڑوں اس دلمیں ہیں!
عاجزی اور انکساری کا بھی دفتر دیکھ لے!!
پردہ پوشی عیب پوشی سیکھ لے اے زاہدہ!
کسقدر شکوے ہیں ظالم اپنے سر پر دیکھ لے!!
اشرف المخلوق ہوں میں کائینات ودہر میں!
تجھ کو گر باور نہیں قرآن پڑھ کر دیکھ لے!!
اپنے دست ناز سے تو کاٹ دے گردن میری!
ہاں مگر یہ شرط ہے تو زور خنجر دیکھ لے!!
ساحل یک جوئی پر اندازہ ہستی نہ کر!
احد و احمد کا مگر پہلے سمندر دیکھ لے!!
غیر تو مجھ کو سمجھتا ہے یہ تیری بھول ہے!
کون ہوں میں کون ہے تو یہ برا بر دیکھ لے!!
آئیگا تجھ کو نظر تیرا وجود اے ناصح!
دل ہی خود ایک آئینہ ہے اپنا پیکر دیکھ لے!!
محمد جار ہے ہیں رب سے ملنے عرش اعظم پر!
خوب ہو گا اب تماشہ چل کے داور دیکھ لے!!