٨٦۔ مُرشد کامل سمجھتے ہیں

 

 

جو رخ پر ایک نقطہ ہے جسے سب تل سمجھتے ہیں!

مگر ہم تو اسے قرآن کا حاصل سمجھتے ہیں!!

 

وہ ہر اک بات پر ناراض ہوتے ہیں سر محفل!

غنیمت ہے کہ وہ ہم کو کسی قابل سمجھتے ہیں!!

 

ہمیں پرواہ نہیں ہے نا خداؤں کی تلاطم میں!

جہاں طوفاں اٹھتا ہے وہی ساحل سمجھتے ہیں!!

 

نظر آتا نہیں کوئی جو اپنے آپ کو سمجھے!

جناب عشق ہر ایک چیز کو محمل سمجھتے ہیں!!

 

مقام دل سمجھنا سب کے حصے میں کہاں زاہد!

جو اہل دل ہیں بس وہ ہی مقام تل سمجھتے ہیں!!

 

کسی کو قتل کردینا نہیں ہے ہمت مرداں!

جو مارے نفس کو اپنے اسے قاتل سمجھتے ہیں!!

 

چھپا نے سے نہیں چھپتی ہے کوئی بات اے داور!

ہمارے دل کو کیا ہے مرشد کامل سمجھتے ہیں!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔