دل آئینہ ہے میرا بڑا لا جواب ہے!
ہر فلسفہ ہے اس میں یہ ایسی کتاب ہے!!
تیرے خدا کا ثانی تو میں لاؤنگا اے شیخ!
میرا خدا ہزاروں میں اک لا جواب ہے!!
پھر اور ملنا مجھ سے نصیحت نہ کر مجھے!
ہاتھوں میں ناصح میرے جام شراب ہے!!
روشن ہے اس کے نور سے دنیا ودین بھی!
میرا صنم خدا کی قسم ماہتاب ہے!!
تم دربدر کی خاک سدا چھانتے رہو!
اے زاہدو تمہارا تو خانہ خراب ہے!!
اس کے کرم پہ پھر بھی ہمیں ناز کیوں نہ ہو!
اتنے کئے گناہ کے جو بے حساب ہے!!
معبود کو سمجھ کے ہی ہم ہے سجود میں!
مرشد کو سجدا کرنا کہاں کا عذاب ہے!!
پینے کی چیز ہے تو پئے جاتے ہیں شراب!
داور ہمارے واسطے کار ثواب ہے!!