خدا کو اور صنم کو ہم عیاں کر تے تو کیا ہوتا!
حرم و دیر کا قصہ بیاں کرتے تو کیا ہوتا!!
کئے سجدہ بت کافر کو ہنگامہ ہوا برپا!
جبین اپنی رہن آستاں کرتے تو کیا ہوتا!!
صنم کا تذکرہ ہم نے کیا خود اپنی محفل میں!
اگر کعبہ میں ہم ذکر بتاں کرتے تو کیا ہوتا!!
چلو اچھا ہوا ہم نے صنم سے دوستی کر لی!
عبادت مسجدوں میں رائیگاں کر تے تو کیا ہوتا!!
ہم انکے رو برو جا کر انہیں کی داستاں رکھدی!
کہانی آپ ہم اپنی بیاں کرتے تو کیا ہوتا!!
زباں کو کاٹدی اس نے ذرا اظہار پر اپنے!
اگر کچھ اور ہم لمبی زباں کرتے تو کیا ہوتا!!
نکل کر آ گئے داور یہی کیا کم ہے جنت سے!
اگر ہم خواہش حور جناں کرتے تو کیا ہوتا!!