٧٥۔ گوھرکو پالیا

 

 

ہیرے کی میں تلاش میں گوہر کو پالیا!

انمول کامئیاب مقدر کو پالیا!!

 

مدت سے آرزو تھی صدف مجھ کو اک ملے!

چھوٹی سی آرزو میں سمندر کو پالیا!!

 

زاہد ترا الجھنا یہاں ٹھیک اب نہیں!

عرفاں کی تیغ اور میں خنجر کو پالیا!!

 

اب مجھ کو اپنے نفس پر قابو ہے رات دن!

سب سے بڑے وہ موزی ستمگر کو پالیا!!

 

کعبہ میں ڈھونڑ یا اسے کاشی میں ڈھنڑا تو!

میں نے تو اس کو دل کے اسی گھر میں پالیا!!

 

صادق اگر ہو آنکھ تو ملتا ہے وہ یہاں!

بے شک میں اس کو راز منور میں پالیا!!

 

داور رفیق آقا کا یہ فیض دیکھئے!

داور کو میں نے عاشق داور میں پالیا!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔