یہ آدم راز داور ہے کوئی جانا نہ پہچانا!
خدا خود چھپ کے اندر ہے کوئی جانا نہ پہچانا!!
من عرف نفس ھو سے دور کیوں رہتا ہے اے زاہد!
وہیں تو رب اکبر ہے کوئی جانا نہ پہچانا!!
علی لانسان سری و آنا سری ھو یہ کہکر!
یہی اک راز دیگر ہے کوئی جانانہ پہچانا!!
مثال آئینہ مومںن کا دل ہے جان لے ناداں!
اسی میں شکل دلبر ہے کوئی جانا نہ پہچانا!!
فسوھما وجوہ اللہ کہتا ہے قرآں رب کا!
جدھر دیکھو تو اکثر ہے کوئی جانا نہ پہچانا!!
خدا کو ڈھونڈ نا مقصود ہو تو آپ میں ڈھنڈو!
یہ آدم شکل داور ہے کوئی جانا نہ پہچانا!!
بنا یا اپنی صوریت پر ہمیں یہ ناز ہے داور!
یہی تو شان مظہر ہے کوئی جانا نہ پہچا نا!!