٦٦۔ تو پھر اور کیا ہے

ملا فیض مرشد سے مجھ کو اے زاہد یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے!

مجھے راز کلمہ کا دیکھو بتاۓ عنایت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے!!

 

کبھی لا پڑھائے کبھی وہ الا مجھے کفر اور شرک سمجھا چکے ہیں!

مرا راز کلمہ میں مجھ کو بتائے یہ قدرت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے!!

 

جو دو کفر اور چار تھے شرک اس میں یہ لفظ کلمہ سے باہر نکالے!

میں قربان مرشد کی حکمت پہ جاؤں کرامت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے!!

 

انھیں کا تصور ہے اس دل میں میرےا نھیں کا ہے چرچا نگاہوں میں ہردم!

نہیں دور رہتے ہیں اک پل بھی مجھ سے محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے!!

 

نماز ایسی قائم کرائے ہیں مجھ کو کہ ہر وقت سجدے میں اک تن ہے میرا!

جو ہے بندگی وہ ادا ہو رہی ہے عبادت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے!!

 

خدا جب سے ذاکر مرا ہو گیا ہے یہا ذاکروں کو سمجھنا پڑا ہے!

فذکورونی وذکور کم کا مانا لکھا ہے شریعت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے!!

(جو دانوں میں لکھے ہوئے ہیں خدا سے بغاوت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے)

 

 میرے سر پہ دادا منور کا سایہ رفیق آقا کی مجھ پہ ہے نظر عنایت!

 میرے واسطے گنج گوہر ہے داور یہ الفت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔