٦٥۔ مجھے معلوم نہ تھا

 

 

خود ہی بیمار خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا!

نام احمد میں دوا تھا مجھے معلوم نہ تھا!!

 

چار عنصر سے بنا کر ہوا گم آپ ہی آپ!

واہ کیا قالو بلی تھا مجھے معلوم نہ تھا!!

 

آپ اپنے ہی کو میں ڈھونڈ نے نکلا در در!

مجھ میں میرا ہی پتہ تھا مجھے معلوم نہ تھا!!

 

کہہ دیا اس نے کہ شہہ رگ سے بھی نزدیک ہوں میں!

میری آنکھوں میں چھپاتھا مجھے معلوم نہ تھا!!

 

اپنے جیسا ہی بنا کر کہا آدم مجھ کو!

جسم آدم میں خدا تھا مجھے معلم نہ تھا!!

 

غور سے دیکھا جو خود کو نظر آیا وہ بھی!

ایک پل بھی نہ جدا تھا مجھے معلم ن تھا!!

 

عالم ہوش میں ہیں کر لیا سجدہ داور!

میرا مرشد ہی خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔