عشق صادق ہے مرا مجھ کو مٹا سکتا ہے کون!
شمع وحدت میں جلا ہوں اب جلا سکتا ہے کون!!
موت قبل انتا موت سے ہے میرا واسطہ!
جا چکا انی اناتک مجھ کو لاسکتا ہے کون!!
چشم دل میں نور کی اک شمع دیکھو جل اٹھی!
ہو گیا روشن جہاں میں اب بجھا سکتا ہے کون!!
لا الہ سے میں گزر کر آیا اللہ میں!
پڑھ لیا کلمہ نبی سے اب پڑھا سکتا ہے کون!!
انفسکم کا معمه نحن واقرب میں ملا!
اب کسی منصورکو سولی چڑھا سکتا ہے کون!!
سرکٹا کر بولا سرمد لا الہ انتا آنا!
اس کے آگے کچھ نہیں ہے راز پا سکتا ہے کون!!
ھو کی تہہ تک جا چکا ہوں یہ رفیقی ہے کرم!
میں بھی وہ غواص ہوں داور ڈوبا سکتا ہے کون!!